Shilajit black resin on a stone slab

Shilajit (شلاجیت): History, Uses, Benefits & Side Effects

by Aurora Wellnes

  • نام: شلاجیت / سلاجیت (Shilajit)
  • نوعیت: نباتاتی اور معدنی مادوں کا قدرتی مرکب، جڑی بوٹی نہیں
  • ماخذ: ہمالیہ، قراقرم اور وسطی ایشیا کی چٹانیں
  • طب: آیورویدک اور یونانی

تعارف

شلاجیت گرمیوں میں بلند پہاڑوں کی چٹانوں کی دراڑوں سے رسنے والا گاڑھا سیاہ مادہ ہے۔ اس میں فلووک ایسڈ، دیگر نامیاتی مادے اور کئی معدنیات پائے جاتے ہیں۔

تاریخ

سنسکرت میں اسے "شلاجتو" کہا گیا، یعنی چٹان کو فتح کرنے والا۔ آیورویدک روایت میں اسے کمزوری دور کرنے اور توانائی بحال کرنے والی دواؤں میں شمار کیا گیا۔ یونانی طب میں سلاجیت گردوں، پیشاب اور عمومی کمزوری کے نسخوں میں استعمال ہوتی رہی ہے۔

روایتی استعمال

  • جسمانی کمزوری اور تھکن میں توانائی کے لیے
  • گردوں اور پیشاب کی صحت کے روایتی نسخوں میں
  • مردانہ طاقت کے مرکبات میں ایک جزو کے طور پر

روایتی طور پر اسے پانی یا نیم گرم دودھ میں حل کر کے لیا جاتا ہے۔ مقدار کے لیے حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

فوائد: تحقیق کیا کہتی ہے

  • ایک چھوٹی تحقیق میں صاف شدہ شلاجیت کے باقاعدہ استعمال سے صحت مند مردوں میں ہارمون کی سطح میں بہتری رپورٹ ہوئی۔
  • کچھ مطالعات میں تھکن اور جسمانی توانائی میں بہتری کا ذکر ہے۔

یہ تحقیقات تعداد میں کم اور چھوٹی ہیں، اس لیے انہیں حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

نقصانات اور احتیاط

  • خام یا غیر صاف شدہ شلاجیت میں سیسہ، سنکھیا اور دیگر بھاری دھاتیں یا جراثیم ہو سکتے ہیں۔ صرف صاف شدہ اور ٹیسٹ شدہ مصنوعات لیں۔
  • بازار میں ملاوٹی اور نقلی شلاجیت عام ہے۔
  • جسم میں آئرن زیادہ ہونے کی بیماری (ہیموکرومیٹوسس) والے افراد استعمال نہ کریں۔
  • یورک ایسڈ، گاؤٹ یا گردے کی پتھری کے مریض ڈاکٹر سے پوچھے بغیر نہ لیں۔
  • زیادہ مقدار سے چکر، دل کی دھڑکن تیز ہونا یا الرجی ہو سکتی ہے۔
  • حمل اور دودھ پلانے کے دوران استعمال نہ کریں۔

خلاصہ

شلاجیت ایک قدیم روایتی مقوی مادہ ہے، لیکن اس کی خالص حالت اور حفاظت سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ معیاری اور ٹیسٹ شدہ مصنوعات ہی استعمال کریں۔

یہ ہمارے مردانہ قوت کے مجموعے میں شامل ہے۔

ڈس کلیمر: یہ مضمون صرف معلومات کے لیے ہے اور کسی بیماری کی تشخیص یا علاج کا دعویٰ نہیں کرتا۔ بیماری یا دوا کی صورت میں استعمال سے پہلے حکیم یا ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔